بیروت،13اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)لبنان کے صدر میشل عون نے لبنانی کی پارلیمنٹ کے سیشن کو ایک ماہ کے لئے ملتوی کردیا ہے جس کے نتیجے میں موجودہ پارلیمان کی مدت میں توسیع کے متنازع بل پر ووٹنگ موخر ہوگئی ہے۔لبنانی حکام کے مطابق ایوان میں جمعرات کے روز موجودہ پارلیمنٹ کا مینڈیٹ 2018 تک بڑھانے کے لئے ووٹنگ کرنا تھی۔ لبنان کی موجودہ پارلیمنٹ کو 2009ء میں چار سال کے لئے منتخب کیا گیا تھا مگر اس کے بعد مدت میں دو بار توسیع کر کے اب تیسری توسیع کی کوشش کی جارہی تھی۔
لبنان کے سماجی کارکنوں نے اس اقدام کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس توسیع کے خلاف مظاہروں کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے پہلے ہونے والی دونوں توسیع کے دوران بھی بیروت میں بڑے عوامی اجتماعات دیکھنے کو ملے تھے جن میں پارلیمنٹ پر تنقید کی گئی تھی۔عوام سے خطاب میں صدر میشل عون کا کہنا تھا کہ بل پر ووٹنگ میں تاخیر کی وجہ سے سیاستدانوں کو مزید وقت ملے گا تاکہ وہ کسی نئے انتخابی قانون پر اتفاق کرسکیں اور لبنانی عوام کے حق رائے دہی کا دفاع کرسکیں۔عون کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مزید وقت دینے کے لئے میں نے لبنانی آئین کے آرٹیکل 59 کے تحت پارلیمانی سیشن کو ایک ماہ کے لئے ملتوی کردیا ہے۔
لبنان کی مرکزی سیاسی جماعتوں کے درمیان نئے انتخابی قوانین پر گزشتہ کئی سال سے اتفاق نہیں ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ نے اپنے مینڈیٹ میں 2013ء سے اب تک دو بار خود ہی توسیع کر دی ہے جس پر یورپی یونین سمیت دیگر حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی۔اکثر سیاسی جماعتیں موجودہ انتخابی نظام کے تحت پارلیمانی انتخابات نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ یہ انتخابی نظام 1960 میں وجود میں لایا گیا اور اس میں فرقوں اور مذاہب کی بنیاد پر حد بندی کی گئی جو کہ کئی سیاستدانوں کے مطابق ان کے حامیوں کی صحیح نمائندگی نہیں کرتی ہیں۔